خواتین کو زیادہ دفاعی نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ہم سماج کی برابر حصہ دار ہیں

سرینگر/کشمیر نیوزبیورو/ناموروکیل اور سیاست دان سفینہ بیگ جنہیں حال ہی میں پی ڈی پی کی شعبہ خواتین کا صدر منتخب کیا گیا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں ہم اس کیس میں تیز رفتاری سے انصاف دلانے کو یقینی بنائیں گے اور مجرموں کو سزا دیں گے جو کٹھوا کے عصمت دری اول قتل میں ملوث ہیں ۔کشمیر نیوز بیریو کے سینئر ایڈیٹر رمیز مخدومی سے براہ راست ایک انٹرویو کے دوران سفینہ بیگ نے کئی مسائل پر بات کی۔پی ڈی پی کی شعبہ خواتین کی ذمہ داری سنبھالنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ، شروع میں میں یہ کہوں گی کہ خواتین ہر سماج کی50 فیصد انسانی وسائل ہوتی ہے اور جب تک ہر شعبے میں ان کی شرکت نہ ہو تب تک سماج نامکمل ہے۔ ہمارے مزہب اسلام نے عورت کو ایک اونچا مقام دیا ہے اور ان کا کردار تسلیم کیا ہے- سیاست میں خواتین کو اہم کردار انجام دینے کی ضرورت ہے خصوصاً خواتین بہترین منتظمین ہیں اور اندرونی خصوصیات و ہمدردی خواتین کو سیاست کے میدان میں زیادہ موزوں بناتی ہیں ۔جن مقابلوں کو مجھ سونپا گیا ہے وہ سنگین ہیں مگر میں کہنا چاہوں گی کہ کشمیر میں خواتین کو متحرک انداز میں سیاست میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ تنازعہ کی وجہ سے زیادہ تر خواتین متاثر ہوئی ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست کو عبادت کی طرح لینا چاہیے، سیاست کو ایمانداری اور دیانتداری کی طرح انجام دینا چاہیے – میں دونوں مین اسٹریم اور علاحدگی پسند سیاستدانوں سے درخواست کرنا چاہوں گی کہ وہ کشمیر کے جلتے ہوئے مسائل کو سیاست سے نہ جوڑیں، لوگوں کے روزمرہ مسائل ہیں، یہاں بہت سے سماجی، معاشی، ماحولیاتی مسائل ہیں جن کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور ان کا موازنہ کشمیر کے سیاسی مسئلہ کے حتمی حل سے نہیں کیا جاسکتا ۔کٹھوعہ واقعہ میں انصاف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ، مجھے اپنے اداروں اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی پر پورا بھروسہ ہے ۔ پورے ہندوستان کی رائے اور عالمی سطح کی رائے اس مسئلہ کے مطلق مسبت ہے سوائے کچھ عناصر کے جو اقلیت میں ہیں کی حرکات خلاف معمول ہیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ، ہم اس کیس میں تیز رفتاری سے انصاف دلانے کو یقینی بنائیں گے اور مجرموں کو سزا دیں گے جو کٹھوا کے عصمت دری اول قتل میں ملوث ہیں ۔کیا اس مسئلہ میں جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کی طاقت موجود ہے، کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست تقطیب (پولاریزیشن) برداشت نہیں کر سکتی اور میں جموں کے عوام کی تعریف کرنا چاہوں گی جنہوں نے جنونی عناصر کے انتشار پھیلانے کے باوجود متاثرہ کا ساتھ دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں مین سٹریم سیاست میں آنے سے سب سے زیادہ خواتین ہچکچاتی ہیں اور میں چاہوں گی کہ ہماری تنظیم کی ہیلنگ ٹچ پالیسی کو زمینی سطح پر لے جاوں اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت یقینی بناوں۔ میں زمینی سطح کے نبض کو پہچانے کے لیے تشدد اور سرحدی تناو سے متاثرہ خواتین کو شامل کروں گی ۔وردی پہن کر خواتین کے خلام جرایم میں ملوث افراد پر قانونی کارروائی نہ عملانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتی اور اس دارومدار کیس پر ہوتا ہے اور کس طرح آپ اس کی پیروی کرتے ہیں ۔سماجی میڈیا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ، آج سماجی میڑیا کا سیاست اور دیگر شعبوں میں غالب کردار ہے مگر بدقسمتی سے کشمیر میں کچھ عناصر اسے کردار سازی کے ہتھیار کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں – اس پر مضبوط تنقید ہونی چاہیے مگر غیر اخلاقی اور غلط زبان کا استعمال نہیں ہونا چاہئے ۔مخالف نظریات کی رائے لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ، مجھے مخالف نظریہ رکھنے والوں سے مثبت رائے لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے ۔بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے حوالے سے مزید اقدامات کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ، عصمت دری اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے ہمیں تمام موجودہ قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانا ہوگا- ایسے بے شرم حرکات انجام دینے والوں کو مثالی سزا دینے کی ضرورت ہے اور کچھ گھرے ہوئے افراد کی حرکات کی وجہ سے ہم پورے ملق کو قصور وار نہیں ٹھرا سکتے – تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ایسے واقعات پر وہ ایک متفقہ رائے اپنائیں کیونکہ اس کی وجہ سے بہت بدنامی اٹھانی پڑتی ہے ۔خواتین کے لئے کوئی پیغام دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ، خواتین کو زیادہ دفاعی نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ہم سماج کی برابر حصہ دار ہیں، میرا ماننا ہے کہ خواتین کو جارحانہ ہونا چاہئے ۔ (کے این بی)

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.