سرینگر/جون 02 /کشمیر نیوز بیورو/
افسپا بھارت کی پارلیمنٹ کا وہ قانون ہے جس کے تحت بھارتی فوج کو اشانت علاقوںمیں خصوصی اختیارات حاصل ہیں، ڈیسٹیربر ایریاز (سپیشل کورٹس) ایکٹ، 1976 کے تحت جس علاقے کو اشانت قرار دیا جائے وہاں کم از کم 3 ماہ تک درجہ قوو ریے گا- ایسا ہی ایک قانون جو 11 ستمبر 1958 کو پاس کیا گیا، ناگا پہاڑوں میں لاگو کرنا تھا، پھر آسام کے کچھ حصے میں – موجودہ دہائیوں میں یہ بھارت کے شمال مشرق میں 7 ریاستوں میں پھیل گئی- اس وقت یہ آسام، ناگا لینڈ، منیپور، اروناچل پردیش میں لاگو ہے- اسی طرح ایک اور 1983 میں پاس گیا جو پنجاب اور چندی گڑھ میں لاگو کیا گیا، اسے 1997 میں 14 سال کی مدت کے بعد ہٹایا گیا- اسی طرح 1990 میں جو قانون پاس کیا گیا اسے جموں و کشمیر میں لاگو کیا گیا جو اب تک موجود ہے –
اس قانون کو بہت سے عوامی حلقوں نے ہدف تنقید کا نشانا بنایا کیوں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہمیشہ الزام لگتا رہا- پچھلے 30 سالوں سے افسپا لگاتار شہ سرخیوں میں چھایا رہا اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا- کچھ مخالفوں کا ماننا ہے کہ انڈین آرمی نے غلطی کی نویت دیکھ کر مجرموں کو سزا دیا ہے جبکہ بہت اس بات سے اختلاف رکھتے ہیں – مثال کے طور پر 1994 میں آرمی پر جو 14 الزام عائد کئے گئے ان میں صرف 3 حقیقت پر مبنی تھے جبکہ 2017 میں 9 الزام آرمی پر لگائے گئے جن میں 4 اب تک غلط ثابت ہوئے ہیں جبکہ 4 کی تحقیقات جاری ہے – سال 1995 میں آرمی پر 15 الزام عائد کئے گئے جن میں 12 غلط ثابت ہوئے، سال2016 میں 7 الزامات میں سے 6 غلط ثابت ہوئے – 1990 سے آرمی پر لگائے گئے الزامات کا غلط ثابت ہونے سے آرمی کو غلبہ حاصل ہوا-
وزیر داخلہ کے ایک خصوصی نمائندے نے اخبار ‘دی ہندو’ کو بتایا کہ ایک اہم پیش رفت کے تحت مرکز نے میگھالیہ میں 1 اپریل سے افسپا ہٹا دیا- اس سے پہلے آسام اور میگھالیہ سرحد پر 20 کلومیٹر کے فاصلے پر افسپا نافذ تھا-
اروناچل پردیش کے اندر افسپا کے قانون کو 16 پولیس تھانوں کے مقابلے میں 8 پولیس تھانوں تک محدود کیا گیا-
اب یہ بحث زور و شور سے جاری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں افسپا کے حوالے سے کیا کیا جا سکتا ہے، بہت سی مرکزی دھارے کی تنظیموں نے اسے ہٹانے کی مانگ کی ہے تاکہ اعتماد سازی کے حوالے سے مدد ملے مگر زمین پر پر تشدد حالات نے افسپا کی موجودگی کو اہم ضرورت بنایا ہے-
عادل احمد ایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ، ” افسپا کو ہٹانے کے لیے پر امن ماحول کی ضرورت ہے، یعنی کشمیر سے تشدد اور بد امنی کا خاتمہ ہو- ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ بھارتی فوج کے ہر ایک سپاہی نے اپنے ملک کی حفاظت کرنے کی شپتھ لی ہوئی ہے- ایسا کرتے ہوئے اشانت علاقوں میں آرمی نے بہت احتیاط سے اپنے سپاہیوں کو کام لینے کی تلقین کی ہے – سیاسی غیر یقینی ، ختم نہ ہونے والا تشدد اور لگاتار خونریزی بھی یہی اشارہ دیتی ہے کہ ریاست میں افسپا کے قانون کی ضرورت ہے تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے –
زمینی حقائق بھی یہی بیان کرتے ہیں کہ جب تک نہ امن، خوشحالی قائم ہو اور بدامنی، خونریزی اور غیر یقینی صورتحال کی سیاہ راتوں کا خاتمہ ہو تب تک ریاست میں افسپا کا سایہ برقرار رہے گا” –
کشمیر کے حقائق اشارہ دے رہے ہیں کہ افسپا کے خاتمے کے لئے ہمیں پہلے ایک لمبی راہ پر کام کرنا ہوگا –

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.