عالمی یوم والدہ:عسکری پسند اولادوں سے کشمیری ماو ¿ں کی صدائے التجائ

نگہت منظور، کشمیر نیوز بیورو
خواتین نے ہمیشہ تہذیبوں کے گہوارے کو آگے لے جانے میں ایک اہم کردار انجام دیا ہے ۔ یہ صدیوں سے روشنی کی علمبردار رہی ہیں ۔ یہ جنم دینے کے معجزہ کی ذمہ دار رہی ہے ۔ ایک ماں کی حیثیت سے خواتین ایک مقدس کردار انجام دیتی ہے ۔ ماو ¿ں نے ہمیشہ انسانی ترقی میں محترم کردار انجام دیا ہے ۔ زچگی کے لیے بے حد صبر، بے غرضی، بے مثال احسان کی ساتھ ساتھ مشکلات برداشت کرنے کی قوت فقط ایک ماں کو ہے۔ یہ چیزیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہیں کہ وہی خواتین کو حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے ۔ 1914 میں ووڑرو ولسن ایک امریکی سیاستدان جس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 28ویں صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دئےے نے ایک قرارداد پر دستخط کیا جس کو یوم والدہ کے نام سے منسوب کیا، جسے ماہ مئی کی دوسری اتوار کو منعقد کیا گیا اور اسے قومی چھٹی کرار دیا تاکہ ماو ¿ں کو اعزاز بخشا جائےا۔ اگرچہ جروس یوم والدہ کی تاسیس کے حوالے سے کامیاب رہے مگر آج یوم والدہ کے موقع پر کشمیری ماو ¿ں کے اندر درد نظر آتا ہے کیونکہ انہیں تشدد سے کافی متاثر ہونا پڑا ۔ کشمیر کے اندر پچھلی 3 دہائیوں سے ماو ¿ں کے مقدس ادارے کو موجودہ بدامنی کی وجہ سے وحشی پن کا شکار بنا دیا گیا ہے ۔
گذشتہ سالوں سے ہم نے بہت سی ماو ¿ں کو اپنے عسکری پسند اولادوں سے درخواست کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر کے گھر واپس آئیں ۔ شمال سے لیکر جنوب اور سینٹرل کشمیر میں ہر جگہ کشمیری ماو ¿ں کی درد بھری چیخیں، سسکیاں اور درخواستیں ہر جگہ سنائی دی ۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں اونتی پورہ تحصیل کا ملنگپورہ گاوں کافی خبروں میں رہا کیونکہ گزشتہ مہینوں میں اس گاوں کا ایک نوجوان عادل بلال عسکریت پسند صفوں میں شامل ہوا۔ حسینہ اختر جو عادل بلال کی ماں ہے نے دل چیرتے ہوئے پرنم آنکھوں کے ساتھ اپنی درد بھری کہانی سنائی – ”میں اپنے بیٹے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، وہ ہمیشہ میرے دل کی ڈھڑکن رہا ہے اور میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح چلا جایے گا ۔ میں بیمار ہوں اور اس کی غیر موجودگی میں بہت سے امراض میں مبتلا ہو چکی ہوں، میری حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ میں عسکری قیادت سی درخواست کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کو واپس بیجھ دیں کہ وہ میری آنکھوں کی روشنی ہے۔“
عادل بلال کی ماں کا کہنا ہے کہ جب سے عادل چلا گیا میں نے کبھی ہمت نہیں کی میں اس کے کمرے میں داخل ہو جاو ¿ں جو مکان کی دوسری منزل میں واقع ہے کیوں کہ کمرے کو اس کے بغیر دیکھ کر میں مر جاو ¿ں گی ۔
حسینہ کا مزید کہنا ہے کہ، ”جب سے عادل عسکری صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلا گیا میں نے ایک بھی رات آرام نہیں کیا ہے، میں اور میرے شوہر ہر رات اس کو آنسوو ¿ں کے ساتھ یاد کرتے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے شوہر آنکھوں کی بینائی سے محروم نہ ہو جائے کیونکہ وہ پوری رات عادل کی یاد میں روتے رہتے ہیں“ ۔
حسینہ کی کہانی میں وہ درد نمایاں ہے جو کشمیری ماو ¿ں کو مسلہ کشمیر کے تاخیر کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔
ہم اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ کچھ وقت پہلے ہم نے ایک اور درخواست دیکھی جو مایوس والدین نے اپنی اولاد سے کی تھی کہ وہ عسکریت کا راستہ ترک کر کے واپس آئے اور ایک دن بعد جب اس کی تصویر اے کے AK 47 کے ساتھ فیسبک پر آئی، توشہر خاص سے18سالہ فحاد مشتاق کی ماں نے اپنے بیٹے سے واپس آنے کے لئے دردمندانہ درخواست کی ۔
امید یہ کی جا رہی ہے کہ ماں کی درخواست ضرور کام کرے گی اور اس اس عالمی یوم والدہ کے موقع پر یہ امید کی جا رہی ہے کہ کوئی بھی کشمیری ماں تشدد سے متاثر نہ ہو اور ماں کی محبت تشدد پر غالب آ جائے۔مختصر یہ کہ کشمیری ماں اپنی اولاد پر زور دے رہی ہیں کہ وہ اسلام کے پرامن اور قوت برداشت کی تعلیمات پر عمل درآمد کریں ۔
ان کی اپنے اولادوں سے درخواست ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اور بندوق ترک کریں کیونکہ صرف امن ایک واحد راستہ ہے جس کی وجہ سے کشمیری ماں کی ممتا اور انسانیت کو پامال ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔سماج کے بڑوں کو بھی چاہیے کہ حالات کا مقابلہ کریں اور صرف ماو ¿ں پر یہ بوجھ نہ ڈالیں اور نوجوانوں سے بندوق چھوڑنے کی تلقین کریں تاکہ کشمیر پھر سے ایک بار امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.