سرینگر/ کشمیر نیوز بیورو/موجود دور میں پوری دنیا خصوصاً وادی کشمیر کو بنیاد پرستی کے چیلنج کا مقابلہ ہے ۔دنیا کے امن اور ہم آہنگی کو بنیاد پرست فکر کی وجہ سے کافی خطرات لاحق ہیں۔تعلیم اور ہنر میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کشمیر میں بنیاد پرستی کو مزید فروغ دیتا ہے ۔متعدد ماہرین نے پہلے بھی اس ضمن میں کہا ہے کہ، کشمیر میں نوجوانوں کا بنیاد پرستی کی طرف مائل ہونا پورے برصغیر کے امن اور ترقی کے لئے خطرہ ہے اور کشمیر میں مزید کثرت وجود اقدار کو فروغ دے سکتا ہے ۔کشمیر نیوز بیورونے بنیاد پرستی اور منفی سوچ کے متعلق کشمیر میں ایک مباحثے کا انعقاد کیا اور وادی کی نامور شخصیات کے ساتھ بات کی۔محمد سلیم پنڈت جو ایک نامور صحافی ہیں کا کہنا ہے کہ، ©”کشمیری نوجوانوں کو ایک ممتاز کردار انجام دینے کی ضرورت ہے، پچھلے 25 سالوں سے میں نے مشکل حالات دیکھے ہیں لہٰذا پرورش اور تربیت ضائع ہو کر رہ گئی اور نفسیاتی ترقی بھی متاثر ہو کر رہ گئی۔ اس حوالے سے ہمارے نوجوانوں کو نمائش کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے انھیں سفر کرنے کے مواقع فراہم کرنے ہونگے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ۔پنڈت کا ماننا ہے کہ بنیاد پرستی کشمیر کے بنیادی معمہ کو متاثر نہیں کر سکتی کیونکہ کبھی کبھار یھاں کی تہذیب مزہب اور شرعی قانون پر بھی حاوی ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ علاحدگی پسند رہنما بھی اپنی تقریر میں مذہب سے زیادہ سیاسی فکر کا پرچار کرتے ہیں ©“۔سید قرار ہاشمی جو ورلڈ اسلامک سٹڈیز کے سکالر ہیں نے کے این بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ” بنیاد پرستی دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ شام سے اراق اور یمن سے کشمیر تک بنیاد بنیاد پرست فکر نے کہر مچا کر رکھا ہے- نوجوانوں کو سمجھنا چاہئے کہ موجودہ مہزب دنیا میں صرف قلم اور تعلیم سے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے – تمام ہوشمند انسان امن سے محبت اور جنگ سے نفرت کرتے ہیں، یہاں تک کہ گاندھی جی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بدلے کی فکر سے انسانیت بربادی کی طرف جاتی ہے – ہمیں مسائل کا حل تعلیم کے ذریعے ڈھونڈنا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ بنیاد پرستی سے صرف تباہی حاصل ہوتی ہے – ہمیں ہر حال میں صوفی حضرات کی پر امن تعلیمات کو اپنانے کی ضرورت ہے جنہوں نے کشمیر کو اپنی ذہانت سے ایک الگ صورت دے دی تھی – بھائی چارہ، امن، انسانیت اور محبت لوگوں کے لئے راستہ ہے، پوری دنیا بنیاد پرست نظریات کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے ©“۔ دوسری طرف شیخ امران جو جموں و کشمیر پیپلز الاینس کے چیئرمین اور ایک سیاسی راہنما ہیں، انہوں نے کے این بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ” نوجوانوں کو ہمیشہ مثبت سوچ رکھنی چاہیے اور بنیاد پرستی عالمی سطح پر ایک بہت بڑا خطرہ ہے، میرا ماننا ہے کہ کشمیر میں بنیاد پرستی کی فکر زیادہ نہیں اور عالمی سطح پر اس کا زیادہ رجحان ہے- ہمیں سمجھانا چاہیے کہ جن مدرسوں پر بنیاد پرستی کے الزامات لگائے گئے ہیں ان کا سماج میں تعلیم کے حوالے سے بھی کم تعاون ہے ©‘ © ©‘۔کشمیر میں بنیاد پرستی کے حوالے سے ان مشکل حالات کا اگر کوئی تسلی بخش حل ہے تو وہ صوفی حضرات کی نمایاں تعلیمات ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ان تعلیمات کو پوری طرح عملانے کا ازم کریں۔اکثریت کی آوازیں کشمیری نوجوانوں کو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ وہ بنیاد پرستی اور منفی سوچ کو ترک کر کے کشمیر کی بہتری کے لئے مثبت سوچ اپنائیں ۔
2018-03-28

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.