مسئلہ کشمیر کے رہتے خواتین کافی حد تک متاثر

مہاراج گنج کی ایک ماں 18 سال سے جبری طور گمشدہ دوبیٹوں کے انتظار میں
رفیع باد کی مقتول پولیس اہلکار کی ماں زونہ بیگمکی دنیا مکمل طور تباہ و برباد
سرینگر/ کشمیر نیوو بیورو/بلال بشیر بٹ/تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری خواتین نے پچھلے30 سالوں سے بدترین درد کا سامنا کیا ہے۔ مرنے والوں کی بڑھتی تعداد سے عورت کو ماں، بیوی اور بہن کی حیثیت سے اپنے عزیزوں کی اموات سے کافی متاثر ہونا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے کشمیری عورتوں میں کشیدگی سے متعلق بیماریاں کافی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ایک بین الاقوامی آزاد طبی انسانی کی تنظیم، ”میڈیسنز سینس فرنٹیئرس/سرحدوں کے بغیر ڈاکٹر“نے کشمیر کے اندر کی گئی ایک سروے میں کچھ اس طرح کی سخت شماریات پایی، 50 فیصد خواتین اور 36 فیصد مرد ذہنی دباو ¿ کا شکار ہیں،36 فیصد خواتین اور21 فیصدمرد پرابیبل انزایٹی ڈس آرڑر (ممکنہ پریشانی) کا شکار ہیں اور 22 فیصد خواتین اور 18 فیصدمرد پوسٹ ٹرامیٹک کشیدگی کا شکار ہیں ۔
کشمیر نیوو بیورو کی ٹیم کچھ ایسی خواتین سے ملے جنہوں نے کشمیر میں بہت قریب سے تنازعہ اور تشدد کے اثرات دیکھے ہیں ۔
زونہ بیگم جو روہامہ رفیع آباد سے تعلق رکھنے والی ایک پولیس اہلکار غلام نبی اہنگرکی ماں ہے (جو سوپور میں 6 جنوری 2018 کو مبینہ جنگجوو ¿ں کے ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے، ان کے ساتھ اور 3 پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے )۔اپنے بیٹے کی موت سے زونہ بیگم مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ، ”میرے پیارے بیٹے کی موت نے مجھے پوری طرح سے چکنا چور کر کے رکھ دیا، اور جیسے آپ جانتے ہیں کہ اولاد کو بڑا کرنے میں دہائیوں کی سخت محنت، محبت لگتی ہے اور پھر تشدد کا دیو انہیں ایک لمحہ میں کھا جاتا ہے۔ پورا خاندان انہیں یادکرتا ہے، وہ ایک شریف اور محنتی نوجوان تھا۔ انہوں نے اپنے پیچھے ہمارے لئے ایک ناتواں بیٹی اور غم زدہ بیوی چھوڑی ہے۔ہم ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں سے التجا کرتے ہیں کہ اس صورتحال کے پیش نظر کوئی سمجھوتہ کریں کیونکہ اس خون خرابہ سے کسی کا فائدہ نہیں ہونے والا – تشدد ہمیں برباد کر رہا ہے اور اس سے اصل متاثر ہم خواتین ہو رہی ہیں جب ہم اپنے کسی عزیز کو دور ہوتے دیکھتی ہیں۔ خواتین ایک ماں، بیوی اور بہن کی حیثیت سے اس ختم نہ ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور وقت آگیا ہے کہ جب اس خون خرابے کو ختم کرنے کے غرض سے سبھی ضروری اقدامات کئے جانے چاہیے۔“
ایک اور واقعہ میں،35 سالہ محمد شفیع راہ اور 30 سالہ مشتاق احمد راہ جو ڈاون ٹاون سرینگر کے مہاراج گنج علاقے سے ہیں، سموکشی نیپال میں صابن کا فین کے شعبے میں کام کرتے تھے، پچھلے 18 سالوں سے غائب پڑے ہیں. ان کے لواحقین کے مطابق انہیں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں نے سال200 میں نیپال سے گرفتار کیا تھا۔
خدیجہ راہ ان دو لاپتہ بیٹوں کی ماں نے کشمیر نیوز بیریو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ”جب سے میرے بیٹے غائب ہیں میں نے ہر دن جہنم کی طرح گزارا ہے۔ ہم نے ہر کونے تک پہنچنے کی کوشش کی تاکہ ان کا کچھ پتہ چل جائے مگر ہر وقت جھوٹے وعدوں کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا، کبھی کوئی مضبوط اشارہ نہیں ملا ۔ میں اور میرے شوہر رات دیر گئے تک بیدار رہ کر اپنے بیٹوں کے مطلق باتیں کرتے ہیں اور ان سالوں میں اپنے بیٹوں کے غائب ہونے میں ہمیں ذہنی تناو ¿ کے علاوہ اور بہت سی بیماریوں کا اثر ہوا ہے – ان 18 سالوں میں ہم پر متعدد کروڑ قیامتیں گزری ہیں، ہمیں کہیں پر بھی انصاف نہیں ملا، ہمارے درد کا کوئی اندازہ نہیں کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے بیٹوں کے ساتھ کیا ہوا – ہم انسان دوست لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے درد سے با خبر ہوں اور ہمارے بیٹوں کی واپسی ممکن بنائیں۔“
زمینی سطح پر چاہے ذہنی تناو ¿ ہو یا قتل و غارت یا پھر عزیزوں کا غائب ہو جانا، کشمیری خواتین ظاہری طور پر تنازعہ کشمیر سے زخمی ہو چکی ہیں ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.