(سرینگر، مارچ ٢٢ (کے این بی)
کھیل ایک ایسا اوزار ہے جس سے نوجوانوں کی طاقت اور صلاحیت کو صحیح راستوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور کشمیر میں اس کی کوئی رعایت نہیں، خصوصاً کھیل کی وجہ سے بچوں کے درمیان دوستانہ تعلقات اور اجتماعی حوصلہ قائم ہوتا ہے – اس کے علاوہ یہ بچوں کا دماغی اور جسمانی توازن بڑھانے میں مفید ہے ، کھیل ان کے جسم کو ایک الگ شکل بخشتا ہے اور انہیں تندرستی اور ہوشیاری بھی حاصل ہوتی ہے –
سرما سے لے کر گرما تک، خزاں سے لے کر بہار تک کشمیر پورے سال بہترین قسموں کے کھیل کی سرگرمیوں میں مصروف ہے – تمام تکلیفوں اور اداسیوں کے باوجود کھیل کشمیری نوجوانوں کو تسلی کا ایک پہاڑ فراہم کرتا ہے اور بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر سماج میں کھیل کو سنجیدگی سے لیا جایے تو کشمیری حکومت زیادہ مثبت اور خوشحالی برپا کر سکتی ہے-
فیصل علی جو ضلعہ بانڈی پورہ میں حربی فنون کے استاد ہیں اور اپنی الیز سپورٹس اکیڈمی کشمیر کو سات ضلعوں میں چلاتے ہیں اور کھیلوں کی تربیت دیتے ہیں مثلاً حربی فنون، رگبی-فٹ-بال، ٹیبل ٹینس، سماج میں ایک چمکتی مثال ہیں –
انہوں نے کشمیر نیوز بیریو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، “ہم اپنی اکیڈمی کے زریعے ہزاروں بچوں کو مختلف کھیلوں میں تربیت دیتے ہیں- کھیل میں سب سے بڑھ کر بچوں کے لئے جسمانی اور ذہنی قوت بڈھانے کی صلاحیت موجود ہیں اور انہیں سماجی برایوں مثلاً ڈرگ ایڈیکشن سے دور رکھنے کی طاقت بھی – موجودہ سرکار نے پچھلی سرکار کے بجائے کھیل کی طرف زیادہ توجہ دیا ہے مگر اس کے باوجود ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کھیل کا بنیادی ڈھانچہ ابھی کمزور ہے – ہمیں اپنے نوجوانوں کو صحیح راستوں کی طرف لگانے کے لئے کھیل کا ایک الگ مثالی ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا-
فیصل کا ماننا ہے کہ دونوں حکومت اور سماج کوکھیل سنجیدگی سے لینا چاہیے، نوجوانوں کو چاہیے کہ کسی ایک کھیل کی طرف جوش اور حوصلہ سے توجہ دیں، والدین اپنے بچوں کا کھیل میں حوصلہ بڑھایں”-
کشمیری بچے جن میں تجمل اسلام سے لیکر ہاشم منصور، عابدہ اختر، عدنان فیاض، جنھوں نے عالمی سطح پر اپنی قوم کا نام روشن کیا سب الیز سپورٹس اکیڈمی سے تربیت پا چکے ہیں اور ان سب کو فیصل نے ہی سکھایا ہے-
افشان عاشق جو پچھلے سال اپریل میں قومی نیوز چینلز کی سرخیوں میں چھایی رہی جب پولیس پر سنگبازی کرتے ہوئے اس اس لڑکی کی تصویریں منظر عام پر آئی تھی، آج بی اے کی ڈگری کر رہی ہے اور جموں و کشمیر کی خواتیں فٹبال ٹیم کی کپتان ہین، انہوں نے بمبئی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ” میں اس حقیقت سے انکار نھیں کر سکتی کہ وہ واقعہ میری زندگی کا ایک حصہ ہے مگر مجھے افسوس ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا- آج میں اپنا مستقبل فٹبال میں دیکھنا چاہتی ہوں اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی طرح توجہ دینا چاہتی ہوں نا کہ اوروں کے پیچھے غلط راستے پر چلوں”-
وار حیدر جو قومی سطح پر رگبی کھیلتے ہیں اور ٨ بار قومی سطح پر نمایاں رہے ہیں اور ٢0١٦ کی سونا جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے ہیں نے کشمیر نیوز بیریو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،” کھیل ہر نوجوان کے لیے ضروری ہے اور کشمیر جیسی جگہ جہاں سرما کی ٹھنڑی اور درد سے بھرا منظر ہے کھیل کی ایک اہم ضرورت ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کو کھیل کے میدان میں زیادہ مواقع اور پلیٹ فارم فراہم کریں تاکہ اس سے بیروزگاری دور ہونے میں مدد مل سکے” –
دوسری جانب آرمی کی طرف سے گلمرگ میں ہایی آلٹیچوٹ وار فیر سکول سرمایی کھیلوں کی تہذیب کو بڑھانے میں کافی امدہ کام کر رہا ھے جیسے کہ سککنگ، بیتھلان وغیرہ –
کشمیر نیوز بیریو سے بات کرتے ہویے میجر جنرل اتول کوشک، جو کہ ہایی آلٹیچوٹ وارفیر سکول گلمرگ کے کمانڈنٹ ہیں نے کہا کہ، ” نوجوان کافی جوش و خروش کے ساتھ سرمائی کھیلوں میں شرکت کر رہے ہیں اور ہم مزید نوجوانوں کو شرکت کرنے کے لیے زور دیتے ہیں اور ہم انہیں سرمائی کھیلوں کی تربیت دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ کشمیر میں زبردست قابلیت اور ذہانت موجود ہے – بیتھلان کے کھیل میں ہم اپنے آرمی جوانوں کو تیار کر رہے ہیں تاکہ آنے والے اولمپکس میں وہ ابھر کر سامنے آ سکیں- کشمیر سے دونوں لڑکے اور لڑکیاں تمام سرمائی کھیلوں میں کافی اچھی طرح حصہ لے رہی ہیں اور گل مرگ انہیں امدہ موقع اور ماحول فراہم کر رہا ہے” –
مجموعی طور پر کھیل کشمیر کے پر آشوب حالات میں ایک امید کی کرن اجاگر کر رہی ہے –
2018-03-22

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.